I love steemit pakistan
"نہر کنارے سایہ"
گرمی کی دوپہر تھی۔ سورج آگ برسا رہا تھا۔ لیکن نہر کے کنارے ایک درخت کے نیچے ٹھنڈی چھاؤں تھی۔ درخت کی شاخیں نہر پر جھکی ہوئی تھیں، جیسے وہ پانی میں اپنا عکس دیکھ رہی ہوں۔ پانی میں آسمان، درخت، اور بادلوں کا عکس اتنا صاف تھا کہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ اصل درخت کہاں ہے اور عکس کہاں۔
نہر کا پانی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا۔ مٹیالا، مگر پر سکون۔ ایک کنارے پر پرانی اینٹوں کی دیوار تھی، جس پر گھاس اگ آئی تھی۔ دوسرے کنارے پر کچا گھاٹ تھا۔ وہیں ایک موٹر سائیکل کا ہینڈل نظر آ رہا تھا، یعنی کوئی وہاں بیٹھا تھا۔ شاید کوئی مسافر جو سفر سے تھک کر یہاں سستانے رک گیا تھا۔
پانی کے کنارے تھوڑا سا کچرا بھی پڑا تھا۔ پلاسٹک کی بوتلیں، شاپر۔ یہ انسانوں کی نشانی تھی۔ انسان جہاں جاتا ہے، اپنا نشان چھوڑ آتا ہے، اچھا بھی اور برا بھی۔
اس نہر کی ایک کہانی ہے۔ کہتے ہیں پچاس سال پہلے یہاں ایک میلہ لگتا تھا۔ لوگ اسی گھاٹ پر نہاتے، کپڑے دھوتے، اور شام کو اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر کہانیاں سنتے۔ پھر وقت بدلا، ٹیوب ویل آ گئے، نہر کی اہمیت کم ہو گئی۔ لوگوں نے آنا کم کر دیا۔
آج بھی وہ درخت وہیں کھڑا ہے۔ اس نے کتنے زمانے دیکھے۔ اس نے بچوں کو جوان ہوتے، جوانوں کو بوڑھا ہوتے دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ کیسے کھیت سنہرے ہوتے ہیں اور پھر کٹ جاتے ہیں۔ دور جو سنہری فصل نظر آ رہی ہے، وہ بھی اسی نہر کے پانی سے ہی تو ہری ہوئی تھی۔
نیچے بیٹھا مسافر پانی کو دیکھ رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ پانی اس سے کہہ رہا ہے، "رک جا، تھوڑی دیر بیٹھ جا۔ دنیا بہت تیز بھاگ رہی ہے۔ تو بھی تو تھک گیا ہوگا۔"
اور وہ واقعی رک گیا۔ درخت کی چھاؤں میں، نہر کے عکس کے سامنے، اس نے ایک لمبی سانس لی۔ سکون کبھی کبھی اتنا قریب ہوتا ہے، بس ایک نہر کے کنارے۔